7 جنوری 2014 - 20:30
اتحاد امت قاضی حسین احمد کی نظر میں

قاضی حسین احمد مرحوم نہایت منصفانہ اور عادلانہ طرز فکر کے حامل انسان تھے۔ اگر کونسل کے کسی اجلاس میں اتفاقاً کسی جماعت کی کم نمائندگی ہوتی یا فریق مخالف اپنے عددی اکثریت کی بنا پر اپنے نظریات یا عقائد کو دوسروں پر مسلط کر رہا ہوتا تو قاضی صاحب مرحوم فی الفور مداخلت کرتے اور یہ کہہ کر روک دیتے کہ ہم یہاں قدر مشترک اور درد مشترک پر جمع ہوئے ہیں، ہمیں اختلافی مسائل میں نہیں پڑنا۔

ابنا: اتحاد و وحدت کا نعرہ آج ایک رواج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ مسلکی اتحاد، کاروباری اتحاد، انتخابی اتحاد، تنظیمی اتحاد، اداری اتحاد، قومی اتحاد، ریاستی اتحاد وغیرہ وغیرہ۔ دنیا میں بہت سے عالمی ادارے انہی اتحادوں کی مختلف شکلیں ہیں۔ عالمی منظر نامے پر نظر کرنے سے بخوبی اندازہ ہو تا ہے کہ اتحاد کی ہر شکل کلی طور پر انسانیت کے لیے سود مند نہیں ہوتی۔ مغربی قوتوں کے فوجی اتحاد نیٹو اور ایساف ایسے ہی اتحاد کی دو مثالیں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں اتحادوں کا مقصد چند مخصوص قوتوں کے مفادات کی نگہبانی ہے جبکہ بقیہ عالم انسانیت ان اتحادوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔

انسانی جماعتوں کے مابین ہونے اتحادوں کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً یہ اتحاد وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں چونکہ ان کا ہدف و مقصد کسی خاص حالت و کیفیت سے بچنا یا اس سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ وقتی ہونے کی ایک اہم وجہ وہ اختلافات ہیں جن کے سبب دو انسانی طبقات اپنا اپنا تشخص برقرار رکھتے ہیں۔ اگر یہ اختلافات سرے سے ہی ختم ہو جائیں تو دو طبقات کا تصور ہی باطل ہو جائے گا۔ جب وہ مخصوص کیفیت یا حالت جس سے بچنے یا فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی اتحاد وجود میں لایا جاتا ہے، بدلنے لگتی ہے تو پھر انسانوں کے مابین موجود اتحاد کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگتی ہیں اور یوں معاشرے میں ایک مرتبہ پھر انسانوں کے دو مختلف الخیال طبقات ابھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا میں موجود سارے اتحاد وقتی ہی ہوں۔ کچھ اتحاد فطری ہیں، جن کے لیے اگر کوئی ادارہ نہ بھی بنے، کوئی فعالیت نہ بھی ہو تب بھی وہ قائم رہتے ہیں۔ انسانیت بذات خود ایسا ہی ایک فطری اتحاد ہے۔ دنیا میں پایا جانے والا ہر انسان اس فطری اتحاد کا رکن ہے۔ آپ نے اکثر انگریزی فلموں میں دیکھا ہوگا کہ ایلین کے حملے کی صورت میں ساری دنیا کے انسان ریاستی، مذہبی، عقیدتی، نسلی تعصب سے بالاتر ہوکر بیرونی دشمن کے خلاف لڑتے ہیں۔ یہ فلمیں اگرچہ تصوراتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ انسانیت ایک اتحاد ہے، جس کی بنیاد ہمارا ایک نوع سے ہونا ہے۔

مملکت عزیز میں بھی ہم نے متعدد اتحاد بنتے اور بگڑتے دیکھے۔ اتحادوں کی منڈی سیاسی دنوں میں خوب عروج پر ہوتی ہے، اپنے اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھ کر مختلف جماعتیں باہم شیر و شکر نظر آتی ہیں۔ انتخابی اور سیاسی اتحادوں میں عموماً یہ ہدف و مقصد ایوان ہائے اقتدار میں پہنچنا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں انتخابی اور سیاسی اتحادوں کے علاوہ اتحاد بین المسلمین کا بھی بہت چرچا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مذہبی افراد کو ہم بنیادی طور پر چند گروہوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔1۔ مقلد2۔ غیر مقلد3۔ غیر مسلم

فی الحال میرا موضوع بحث مسلمانوں میں پائے جانے والے مختلف گروہ ہیں، لہذا غیر مسلم پاکستانیوں میں پائے جانے والے طبقات میرے زیر نظر نہیں۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ مسلمان دو بڑے گروہوں مقلدین اور غیر مقلدین پر مشتمل ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مقلدین کی پھر آگے مزید تقسیمات ہیں، جن میں حنفی، مالکی اور جعفری قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح غیر مقلدین میں سلفی یا اہلحدیث، اخباری نیز بعض صوفی سلسلے شامل ہیں۔ حنفی پھر مزید گرہوں میں منقسم ہیں بریلوی، دیوبندی، سنی اس گروہ کی بڑی شاخیں ہیں۔ بریلوی، اہلسنت اور دیوبندی بھی مزید کئی ایک وابستگیوں کے حامل ہیں۔ یہی حال مالکیوں، جعفریوں، سلفیوں، اخباریوں اور صوفیوں کا ہے۔ ہر بڑے گروہ کی متعدد تنظیمیں، ادارے، مدارس اور مساجد ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں اس قدر گوناگوں گروہوں کا وجود کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ تقریباً دنیا کے سبھی معاشروں میں انسان اسی طرح سے مختلف گروہوں سے منسلک ہیں۔ ان گروہوں کا وجود انسانی افکار میں پائے جانے والے اختلافات کی غمازی کرتا ہے۔ جیسا کہ میں نے قبل ازیں عرض کیا کہ دو مختلف نظریات کے حامل گروہوں کا اتحاد عموماً مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔ یہ بات عموماً دونوں گروہوں پر واضح ہوتی ہے کہ ہم کسی ایک مشترک ہدف و مقصد کے حصول کے لیے جمع ہوئے ہیں اور ہمارا یہ مل بیٹھنا قطعاً بھی اس بات کی علامت نہیں کہ ہم میں سے کسی ایک نے اپنے نظریات یا عقائد سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ قاضی صاحب مرحوم جو ملک کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ تھے، کا زیادہ وقت کونسل میں شامل جماعتوں کے افراد کو یہ باور کروانے میں گزرا کہ ہمارے اکٹھ کا مقصد کسی گروہ کو اپنے میں ضم کرنا یا اس پر اپنی فکر کو مسلط کرنا نہیں بلکہ ہم یہاں قدر مشترک اور درد مشترک کو مدنظر رکھتے ہوئے جمع ہوئے ہیں۔ ہماری منزل فقط ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ اور امت مسلمہ کی رہبری ہے۔

قاضی حسین احمد مرحوم کی صحبت میں ایک سال گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آپ کونسل کو ایک بڑے ہدف اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمیں انہی رنگا رنگیوں کے ساتھ بڑے مقاصد کے لیے کام کرنا ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم نہایت منصفانہ اور عادلانہ طرز فکر کے حامل انسان تھے۔ اگر کونسل کے کسی اجلاس میں اتفاقاً کسی جماعت کی کم نمائندگی ہوتی یا فریق مخالف اپنے عددی اکثریت کی بنا پر اپنے نظریات یا عقائد کو دوسروں پر مسلط کر رہا ہوتا تو قاضی صاحب مرحوم فی الفور مداخلت کرتے اور یہ کہہ کر روک دیتے کہ ہم یہاں قدر مشترک اور درد مشترک پر جمع ہوئے ہیں، ہمیں اختلافی مسائل میں نہیں پڑنا۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک محفل میں کسی صاحب نے یکم محرم الحرام کو یوم شہادت عمر فاروق ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے منانے کی بات کی تو قاضی حسین احمد مرحوم نے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ یہ ملی یکجہتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ ہمیں کونسل سے مشترکات کی بات کرنی ہے، ممکن ہے کونسل میں شامل کوئی مسلک یا جماعت اس دن کو منانے سے اختلاف رکھتی ہو۔ انھوں نے اس موقع پر نہایت خوبصورت انداز میں معاملے کا حل نکالا اور کہا کہ ہمیں عشرہ محرم الحرام کو شہادت حق کے عنوان سے منانا چاہیے، چونکہ امام حسین(ع) نے ایسے شخص کی بیعت سے انکار کیا جو خدا اور اس کے رسول ؐ کا مطیع نہیں تھا۔ ہمیں عشرہ شہادت حق میں امام عالی مقام کے اسی پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت قاضی صاحب مرحوم ایک داعی اتحاد ہونے کے ساتھ ساتھ معلم اتحاد بھی تھے، جو کونسل میں شامل جماعتوں کے ممبران کو اکثر و بیشتر مقصد اتحاد کی جانب متوجہ کرتے رہتے تھے۔ میں نے قاضی صاحب مرحوم کی رحلت کی بعد سے آج دن تک ملی یکجہتی کونسل میں شامل کسی بھی جماعت کے قائد کی زبان سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ ہم یہاں صرف فرقہ واریت کے سدباب کے لیے ہی نہیں بلکہ اس سے بہت بڑے مقاصد کے حصول کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ بالیقین قیادت کی ذہنی بالیدگی اور وژن تنظیموں یا اتحادوں کی پیشرفت میں نہایت اہم کردار کا حامل ہوتا ہے۔ خداوند کریم مرحوم قاضی حسین احمد کو امت کے اتحاد کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ کوشش پر اجر جزیل عطا فرمائے اور ہماری موجودہ مذہبی قیادت کو قاضی صاحب کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

.......

/169